YouTube
Ahkam e Tijarat Ep # 338 | احکام تجارت قسط نمبر338 | Mufti Ali Asghar Attari
- Recorded
- 31 October 2021 · 25 Rabi al-Awwal 1443 AH
- Duration
- 27:36
Key moments
- 4:12کپڑےکےکاروبارمیں انویسٹمنٹ کرنےکادرست طریقہ
- 5:18واٹرفلٹربلانٹ میں پارٹنرشپ کرنےکادرست طریقہ
- 8:40بروکرکادوطرفہ کمیشن لیناکیسا؟
- 10:23مسجدکےپلاٹ کےلئے چندہ پیمائش کےحساب سےکرناکیسا؟
- 12:34مسجد کےچندہ سےلی گئی چیزبیچناکیسا؟
- 14:46جس شخص سےفروٹ کاباغ خریداہےوہ پوچھتاہےکہ منڈی میں پیٹی کتنےکی بیچتےہوکیااسےقیمت بتاناضروری ہےیانہیں؟
- 16:00لنڈےکےکپڑوں سےنکلنےوالی رقم کاحکم
- 17:18ڈیوٹی ٹائم میں اسی ادارےمیں فری لانس کام کرناکیسا؟
- 18:53نیاکاروبار کس دن شروع کرناچائیے؟
- 19:34چکی کےکاروبارمیں کیاکیااحتیاط کرنی چائیے؟
- 24:00اسپیئرپارٹس شاپ والےکا دکان کےسامنےبیٹھےمکینک سےمنافع سےحصہ مانگناکیسا؟
From the video description
ནྱཾ༩ྀسلسلہ احکام تجارتནྱཾ༩ྀ ༄ قسط نمبر338 🎙 مفتی علی اصغرعطاری صاحب 📽مدنی چینل پرلائیو ہونے کی تاریخ 31اکتوبر2021 اس سلسلے میں درج ذیل سوالات شامل ہیں 🌹------- ★★-------🌹 01- کپڑےکےکاروبارمیں انویسٹمنٹ کرنےکادرست طریقہ(04:12سے05:16) 02- واٹرفلٹربلانٹ میں پارٹنرشپ کرنےکادرست طریقہ(05:18سے07:13) 03- بروکرکادوطرفہ کمیشن لیناکیسا؟(08:40سے10:22) 04- مسجدکےپلاٹ کےلئے چندہ پیمائش کےحساب سےکرناکیسا؟(10:23سے12:30) 05- مسجد کےچندہ سےلی گئی چیزبیچناکیسا؟(12:34سے14:44) 06- جس شخص سےفروٹ کاباغ خریداہےوہ پوچھتاہےکہ منڈی میں پیٹی کتنےکی بیچتےہوکیااسےقیمت بتاناضروری ہےیانہیں؟(14:46سے15:57) 07- لنڈےکےکپڑوں سےنکلنےوالی رقم کاحکم(16:00سے17:13) 08- ڈیوٹی ٹائم میں اسی ادارےمیں فری لانس کام کرناکیسا؟(17:18سے18:52) 09- نیاکاروبار کس دن شروع کرناچائیے؟(18:53سے19:31) 10- چکی کےکاروبارمیں کیاکیااحتیاط کرنی چائیے؟(19:34سے23:57) 11- اسپیئرپارٹس شاپ والےکا دکان کےسامنےبیٹھےمکینک سےمنافع سےحصہ مانگناکیسا؟(24:00سے27:06) Ahkam e Tijarat Ep # 338 | احکام تجارت قسط نمبر338 | Mufti Ali Asghar Attari ► Like | Share | Comment & Follow | Subscribe | Mufti Ali Asghar ↪►► https://www.youtube.com/c/MuftiAliAsghar Like us on Facebook: https://www.facebook.com/MuftiAliAsghar Follow us on Twitter: https://twitter.com/muftialiasghar جَزَاكَ اللهُ خَيراً
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.