YouTube
Ahkam e Tijarat Ep # 325 | Mufti Ali Asghar Attari
- Recorded
- 9 May 2021 · 27 Ramadan 1442 AH
- Duration
- 36:28
Key moments
- 1:11مال تجارت کاحساب کیسےلگائیں اورزکوٰۃ کیسےاداکریں؟
- 7:05ایک فرد کافطرانہ کتناہوناچاہیئے؟
- 7:44مال تجارت کی زکوٰۃ نکالنے کےلئے بھی سال کاگزرناضروری ہےیانہیں؟
- 8:55دودھ پیتےبچےکی الٹی پاک ہےیاناپاک؟
- 13:39جوتےکی دکان ہےزکوٰۃ میں جوتےدےسکتےہیں یارقم دیناضروری ہے؟
- 19:37منشیات کےعادی شخص کو فطرہ دےسکتےہیں یانہیں؟
- 21:25بیرون ملک رہنےوالےوہیں فطرہ اداکریں گےیاپاکستان میں؟
- 23:10گھر کےاضافی سامان مثلا فرنیچر،فریج وغیرہ پربھی زکوٰۃ ہوگی یانہیں؟
- 27:41لوڈنگ گاڑی پرزکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟
- 28:22کیااس دور میں سود کے بغیر کاروبارکرناممکن نہیں ہے؟
- 30:31بھتیجی کی شادی زکوٰۃ کی رقم سےکراسکتےہیں یانہیں اور ابھی شادی میں 3،4سال رہتےہیںتو کیازکوٰۃ کی رقم بھتیجی کو ہرسال اداکرتےرہیں یااپنےپاس جمع کرسکتےہیں؟
- 32:01بیٹی کےلئے جوزیورات خریدےہیں کیا ان پربھی زکوٰۃ فرض ہوگی یانہیں؟
From the video description
༄ ནྱཾ༩ྀسلسلہ احکام تجارتནྱཾ༩ྀ ༄ قسط نمبر325 🎙 مفتی علی اصغرعطاری صاحب 📽مدنی چینل پرآن ئیر ہونے کی تاریخ 09مئی2021 اس سلسلے میں درج ذیل سوالات شامل ہیں 🌹------- ★★-------🌹 1- مال تجارت کاحساب کیسےلگائیں اورزکوٰۃ کیسےاداکریں؟(01:11سے04:33) 2- ایک فرد کافطرانہ کتناہوناچاہیئے؟(07:05سے07:43) 3- مال تجارت کی زکوٰۃ نکالنے کےلئے بھی سال کاگزرناضروری ہےیانہیں؟(07:44سے08:52) 4- دودھ پیتےبچےکی الٹی پاک ہےیاناپاک؟(08:55سے09:18) 5- جوتےکی دکان ہےزکوٰۃ میں جوتےدےسکتےہیں یارقم دیناضروری ہے؟(13:39سے18:26) 6- منشیات کےعادی شخص کو فطرہ دےسکتےہیں یانہیں؟(19:37سے21:21) 7- بیرون ملک رہنےوالےوہیں فطرہ اداکریں گےیاپاکستان میں؟(21:25سے21:43) 8- گھر کےاضافی سامان مثلا فرنیچر،فریج وغیرہ پربھی زکوٰۃ ہوگی یانہیں؟(23:10سے25:43) 9- لوڈنگ گاڑی پرزکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟(27:41سے28:18) 10- کیااس دور میں سود کے بغیر کاروبارکرناممکن نہیں ہے؟(28:22سے30:29) 11- بھتیجی کی شادی زکوٰۃ کی رقم سےکراسکتےہیں یانہیں اور ابھی شادی میں 3،4سال رہتےہیںتو کیازکوٰۃ کی رقم بھتیجی کو ہرسال اداکرتےرہیں یااپنےپاس جمع کرسکتےہیں؟(30:31سے31:57) 12- بیٹی کےلئے جوزیورات خریدےہیں کیا ان پربھی زکوٰۃ فرض ہوگی یانہیں؟(32:01سے34:25)
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.