Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے جانور کے پیٹ سے ذبح کے بعد بچہ نکل آئے تو اس کے متعلق تفصیل

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2945
Issued
02 صفر 1446ھ / 08 اگست 2024ء

Question

اگر قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ نکل آئے تو کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ نکلے، تو اگر زندہ ہے تو اس کو بھی ذبح کر دیں اور اس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے، جو اس کی ماں کے گوشت کا ہے اور اگر بچہ مردہ ہو تو اس کو چھینک دیں کہ مردار ہے۔ در مختار میں ہے "ولدت الأضحية ولد قبل الذبح يذبح الولد معها" ترجمہ: اگر قربانی کے جانور کو ذبح سے قبل بچہ ہو تو بچے کو اسی کے ساتھ ذبح کر دیا جائے۔ اس کے تحت رد المختار میں ہے "فإن خرج من بطنها حيا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم" ترجمہ: اگر پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو اکثر مشائخ اسی پر ہیں کہ اس کو بھی ماں کی طرح ذبح کر دیا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.