Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس الماری میں قرآن مجید رکھا ہو، اس کے اوپر کوئی چیز رکھنا

Answered by
مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2934
Issued
01 صفر 1446ھ / 07 اگست 2024ء

Question

الماری کے اندر سب سے اوپر والی جگہ میں قرآن پاک رکھا ہو تو کیا اس الماری کے اوپر کوئی چیز رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

ادب کا تقاضہ یہی ہے کہ جس الماری میں قرآن پاک رکھا ہوا ہے اس کے اوپر کوئی سامان نہ رکھا جائے، فقتہائے کرام نے تو ایسی الماری جس میں کتابیں ہوں اس پر بھی کپڑے وغیرہ سامان رکھنے سے منع فرمایا ہے تو قرآن پاک رکھے ہونے کی صورت میں ممانعت بدرجہ اولیٰ ہوگی۔ چنانچہ بحر الرائق میں ہے ”حانوت أو تابوت فيه كتب فالأدب أن لا يضع الثياب فوقه“ ترجمہ: کسی الماری یا صندوق میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر کپڑے نہ رکھے جائیں۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، ج 1، ص 213، دارالکتاب الاسلامی) فتاوی رضویہ میں ہے ”ہمارے علماء۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.