Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فبہا نام کا مطلب اور فبہا نام رکھنا

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-2929
Issued
26 محرم الحرام 1446ھ / 02 اگست 2024ء

Question

فبہا نام رکھنا کیسا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟

Answer (beginning)

فبہا عربی زبان میں دو حروف اور ایک ضمیر سے مرکب ایک کلمہ ہے، جو باقاعدہ کوئی اسم نہیں اور نہ ہی نام رکھنے کے لیے مناسب کلمہ ہے، لہذا یہ نام رکھنے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ یہی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی یہی کے شامل حال ہوگی۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: "تسموا بخیار کم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.