Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امۃ الحفیظ نام کے متعلق وضاحت
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2909
- Issued
- 20 محرم الحرام 1446ھ / 27 جولائی 2024ء
Question
امة الحفيظ کا معنی کیا ہے؟
Answer (beginning)
لفظ "امة" کا معنی ہے: "بندی، کنیز وغیرہ۔" اور "حفيظ" اللہ عزوجل کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کا معنی ہے: "حفاظت فرمانے والا، گہبان۔" دونوں کو ملا کر اس کا معنی بنے گا: "اللہ عزوجل کی بندی یا کنیز۔" جس طرح بچے کا نام عبد الحفيظ رکھنا جائز ہے، یونہی بچی کا نام "امة الحفيظ" رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ! عام بول چال کے اعتبار سے اس نام کے مشکل ہونے کی وجہ سے، لوگوں کا اسے بگاڑ دینا ممکن ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ کوئی آسان، اسلامی نام رکھ لیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.