Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کے جنریٹر سے محلے کے گھروں میں لائٹ دینا

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2897
Issued
15 محرم الحرام 1446ھ / 22 جولائی 2024ء

Question

میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے جنریٹر کی لائٹ، باہر محلے کے گھروں میں دے کر ان سے ماہانہ اخراجات لے کر مسجد کی آمدنی کم ہونے کی بناء پر مسجد میں وہ پیسے استعمال کر سکتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

Answer (beginning)

اگر وہ جنریٹر مسجد پر مسجد کے استعمال کے لئے وقف ہے تو اسے کرایہ پر لینا، دینا یا اس کی بجلی کسی کو کرایہ پر دینا حرام ہے، کیونکہ جو چیز جس غرض کے لئے وقف کی گئی، دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا، نا جائز ہے۔ ہاں البتہ اگر مسجد کا وہ جنریٹر کرایہ پر دینے کے لئے وقف ہو کہ اسے یا اس کا پاور کرایہ پر سپلائی کیا جائے تو کرایہ لے کر خود جنریٹر کرایہ پر دینا یا اس کی بجلی گھروں میں پہنچانا جائز ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.