Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا نام ذو الکیف رکھنا

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-2893
Issued
16 محرم الحرام 1446ھ / 23 جولائی 2024ء

Question

بچے کانام "ذوالکِیف" رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

ذوالکِیف دو لفظوں کا مجموعہ ہے: "ذو" جس کا معنی ہے: والا۔ "کِیف" کا مطلب: کیفیت۔ لہذا ذوالکِیف کا مفہوم ہوا: "کیفیت والا۔" یہ کوئی با مقصد اور موزوں معنی نہیں ہے، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔ البتہ! "ذوالکفل" اور "ذوالقرنین" نام رکھے جاسکتے ہیں کہ یہ نیک ہستیوں کے نام ہیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ اولاً بچے کانام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کانام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالیٰ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.