Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تعویذ پہن کر واش روم جانا

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2891
Issued
16 محرم الحرام 1446ھ / 23 جولائی 2024ء

Question

اگر تعویذ گلے یا بازو پر پہنا ہوا ہو، تو تعویذ کے ساتھ واش روم جاسکتے ہیں، یا تعویذ اتار کر جانا ہو گا؟

Answer (beginning)

کسی کپڑے، ریگزین، چمڑے وغیرہ میں لپیٹ کر گلے یا بازو میں پہنے گئے تعویذ کے ساتھ واش روم جانا، جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں، البتہ اتار دینا بہتر ہے۔ در مختار میں ہے: "رقية في غلاف متجاف لم يكره دخول الخلاء به والاحتراز افضل" ترجمہ: کسی جدا غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں، البتہ بچنا افضل ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة، ج 1، ص 178، دار الفکر، بیروت) جمع الانہر میں ہے: "ولو كان ما فيه شيء من القرآن أو من أسماء الله تعالى في جيبه لا بأس به وكذا لو كان ملفوفا في شيء لكن التحرز أولى" ترجمہ: اور اگر جیب میں ایسی چیز ہو جس میں کوئی آیت یا کوئی نام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.