Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام حَمدَہ رکھنا

Answered by
مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2889
Issued
13 محرم الحرام 1446ھ / 20 جولائی 2024ء

Question

میرا سوال یہ ہے کہ کیا حمیدہ (حاہ کی فتح اور مہم کے سکون کے ساتھ) نام رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

حمیدہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: "تعریف کی ہوئی عورت"۔ تو اس لحاظ سے بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔ المعجم الوسيط میں ہے "(الحمد) الشناء بالجمیل و یوصف به فیقال رجل حمد و امرأة حمد و حمیدة۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.