Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کا جواب دینے پر کتنی نیکیاں ملتی ہیں ؟
- Answered by
- مولانا محمد ماجد علی مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2887
- Issued
- 13 محرم الحرام 1446ھ / 20 جولائی 2024ء
Question
عورتوں کو اذان کا جواب دینے پر کتنی نیکیاں ملتی ہیں؟
Answer (beginning)
عورتوں کو اذان کا جواب دینے پر ملنے والے ثواب کے متعلق تاریخ دمشق لابن عساکر میں ایک روایت لکھی ہے ”قام النبي صلى الله عليه وسلم بين صف الرجال والنساء فقال 'يا معشر النساء إذا سمعتن هذا الحبشي يؤذن ويقيم يعني بلالا فقلن كما يقول فإن الله يكتب لكن بكل كلمة مائة ألف حسنة ويرفع لكن ألف درجة ويحط عنكن ألف سيئة' قال فقلن يا رسول الله هذا للنساء فما للرجال قال للرجال ضعفين 'ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار عورتوں اور مردوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت! جب تم بلال کو اذان و اقامت کہتے سنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہو کہ اللہ عزوجل تمہارے لئے ہر کلی کے بدلے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.