Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام بطحاء رکھنا

Answered by
مولانا محمد علی عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2880
Issued
11 محرم الحرام 1446ھ / 18 جولائی 2024ء

Question

بچی کا بطحاء نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

بطحاء نام رکھنا درست ہے۔ اس کا معنی ہے: کشادہ وادی / نالہ، جس میں ریت و کنکر ہوں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور دوسری نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر بچی کا نام رکھا جائے، اس سے امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔ بطحاء کے معنی کے متعلق المغرب فی ترتیب المغرب میں ہے: "(البطحاء) مسيل ماء فيه رمل و حصى ومنها بطحاء مكة" ترجمہ: بطحاء، ایسے پانی کی گزرگاہ جس میں ریت و کنکر ہوں، اسی سے ہے بطحاء مکہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.