Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام طیب رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2879
- Issued
- 11 محرم الحرام 1446ھ / 18 جولائی 2024ء
Question
بچے کا نام طیب رکھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
بچے کا نام طیب رکھنا بلاشبہ جائز ہے کہ طیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کا معنی ہے پاک / پاکیزہ۔ لہذا یہ نام رکھنا جائز اور باعث برکت بھی ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف 'محمد' رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں 'محمد' نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے طیب نام رکھ لیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.