Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اجتماعی قربانی میں وقتِ ذبح شرکاء کے نام لینے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2873
- Issued
- 06 محرم الحرام 1446ھ / 13 جولائی 2024ء
Question
جانور ذبح کرتے وقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے لیکن دل میں نیت تھی کہ یہ فلاں فلاں کی قربانی ہے تو اس طرح قربانی ہو جائے گی؟
Answer (beginning)
جن شرکاء کی طرف سے قربانی ہو رہی ہے، ذبح کے وقت ان کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں، زبان سے نام لیے بغیر بھی ان شرکاء کی طرف سے قربانی ہو جاتی ہے۔ لہذا سوال میں جن شرکاء کی قربانی کا ذکر ہے کہ ذبح کے وقت زبان سے ان کا نام نہیں لیا، صرف دل میں نیت تھی تو ان کی قربانی درست ہو گئی۔ خزانۃ الاکمل میں ہے ”ولو لم یذ کر اسماء هم عند الذبح جاز، والمعتبر هو النية“ ذبح کے وقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے جب بھی جائز ہے کہ معتبر نیت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.