Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جانور کا ایک سینگ آدھا ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی کا حکم

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2849
Issued
28 ذوالحجہ الحرام 1445ھ / 05 جولائی 2024ء

Question

اگر کسی مینڈھے کے سینگ ہوں، اور ایک سینگ آدھا ٹوٹا ہو تو کیا اس کی قربانی ہو سکتی ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں! اس مینڈھے کی قربانی جائز ہے کیونکہ سینگ کا ٹوٹا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہو، لیکن اگر کسی جانور کا آدھا سینگ ٹوٹے یا جڑ سمیت ٹوٹے لیکن زخم بھر جائے، تو اس صورت میں اس کی قربانی ہو سکتی ہے۔ ردالمحتار میں ہے: ”یضحی بالجماء وھی التی لا قرن لھا خلقة و کذا العظماء التی ذهب بعض قرنھا بالکسر او غیره، فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قهستانی، وفی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لا یجزئ والمشاش رؤس العظام مثل الر کبتین والمرفقین“ ترجمہ: جماع کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ پیدا کشی نہ ہوں، یو نجی عظماء کی بھی جائز ہے، یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ کا کچھ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.