Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صحابہ کرام کے گستاخ کے ساتھ تعلقات رکھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2846
- Issued
- 24 ذوالحجہ الحرام 1445ھ / 01 جولائی 2024ء
Question
صحابہ کرام علیہم الرضوان کے گستاخ کے ساتھ کیا تعلق رکھنا چاہیے؟
Answer (beginning)
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کرنا سخت ناجائز و حرام اور فسق و بدعت ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے اور ایسا کرنے والا سخت گناہگار مستحق عذاب نار اور فاسق و گمراہ ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ سلام، کلام و غیرہ کسی طرح کا کوئی تعلق رکھنا جائز نہیں ہے، اس سے اس وقت تک قطع تعلق کرنا ضروری ہے جب تک وہ اپنی اس حرکت سے باز آکر نیکی توبہ نہ کر لے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ" ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.