Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام ماہرہ رکھنا

Answered by
مولانا محمد علی عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2833
Issued
25 ذوالحجہ الحرام 1445ھ / 02 جولائی 2024ء

Question

کیا بچی کا نام ماہرہ رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

بچی کا نام ماہرہ رکھ سکتے ہیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ: ماہرہ، ماہر کی مؤنث ہے، لغات میں ماہر کے مختلف معنی بیان کیے گئے ہیں، جیسے حاذق، اچھا تیرنے والا، کامل فن، واقف کار، تجربہ کار وغیرہ، ان معانی کے لحاظ سے بچی کا نام ماہرہ رکھنے میں حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔ المتحد میں ہے ”الماهر: حاذق، اچھا تیرنے والا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.