Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرے کے طواف میں اضطباع نہیں کیا تو کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2811
- Issued
- 307ھ / اکتوبر 1445ھ / 14 جون 2024ء
Question
اگر کسی نے عمرے کے طواف کے دوران سیدھا کندھا کھول کر طواف نہیں کیا، تو کیا اس طواف کو دوبارہ ادا کرنا ہو گا؟
Answer (beginning)
جس طواف کے بعد سعی ہو، اس طواف میں رمل سنت ہے اور اگر وہ طواف حالتِ احرام میں کیا جائے، تو ”اضطباع“ یعنی دائیں کندھے کو کھلا رکھنا بھی سنت ہے، ورنہ نہیں، اس کے مطابق عمرے کے طواف میں اضطباع کیا جائے گا، البتہ اگر کسی نے اضطباع نہیں کیا، تو بھی اس کا طواف ادا ہو جائے گا، ہاں! سنت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ لباب و شرح لباب میں ہے ”(وهو) أي الاضطباع (سنة في كل طواف بعده سعي) كطواف القدوم والعمرة وطواف الزيارة على تقدير تأخير السعي، وبفرض أنه لم يكن لا يسأفلا ينافي ما قال في «البحر» من أنه لا يسن في طواف الزيارة، لأنه قد تحلل من إحرامه وليس المخيط، والاضطباع في حال بقاء الإحرام“ ترجمہ: اضطباع ہر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.