Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھیڑ کے چھ ماہ کے بچے کی قربانی ہوسکتی ہے کہ نہیں؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2804
Issued
15 ذوالحجہ الحرام 1445ھ / 22 جون 2024ء

Question

بھیڑ کے چھ ماہ کے بچے کی قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

دنیہ یا بھیڑ کا چھ ماہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ اگر اسے سال والے جانوروں میں ملایا جائے تو دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اوس کی قربانی جائز ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا تذبحوا الا مسنة الا ان يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضان" ترجمہ: تم صرف مسنہ (یعنی ایک سال کی بکری، دو سال کی گائے اور پانچ سالہ اونٹ) کی قربانی کرو، ہاں اگر تم کو دشوار ہو، تو دنیہ یا بھیڑ کا چھ ماہ بچہ ذبح کر دو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.