Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرمگاہ کوہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک ہوتا ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2799
- Issued
- 14 ذوالحجہ الحرام 1445ھ / 21 جون 2024ء
Question
مرد کی شرمگاہ پاک ہے یا ناپاک؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شرمگاہ ناپاک ہوتی ہے لہذا اگر کسی نے شرمگاہ کو چھو لیا تو ہاتھ ناپاک ہو جائے گا، جب تک اس کو دھونہ لیں ہاتھ پاک نہیں ہو گا۔ لہذا اس کا حکم ارشاد فرمادیں کہ کیا واقعی شرمگاہ ناپاک ہوتی ہے؟
Answer (beginning)
مرد کی شرمگاہ پر اگر کوئی ناپاک چیز نہ لگی ہو تو یہ پاک ہے، لہذا اس کو ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہو گا، اس لیے کہ یہ جسم کے دیگر حصوں کی طرح ایک حصہ ہے جیسے دیگر اعضاء فی نفسہ پاک ہیں، اسی طرح یہ بھی پاک ہے اور جیسے دیگر اعضاء کو ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہوتا (جب تک کہ ان پر کوئی ایسی ناپاک چیز نہ لگی ہو جو چھوٹ کر ہاتھ کو لگے)، اسی طرح شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے بھی ہاتھ ناپاک نہیں ہو گا۔ نیز اگر شرمگاہ فی نفسہ ہی ناپاک ہوتی تو اس کے ہوتے ہوئے نماز کیسے درست ہوتی؟ اور اگر اس کو ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک ہوتے تو اس کے ساتھ لگانے والے کپڑے اور جسم کے دوسرے حصے بھی ناپاک ہو جاتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.