Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنتوں کی قضا ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2771
- Issued
- 27 ذیقعدہ الحرام 1445ھ / 05 جون 2024ء
Question
اگر ظہر کی نماز رہ جائے اور بعد میں قضا پڑھنی ہو تو چار رکعت پڑھنا ہوں گی یا بارہ رکعت؟
Answer (beginning)
اگر نماز رہ جائے تو بعد میں اس کی قضا کرتے وقت صرف فرض و واجب کی قضا کی جائے گی سنن و نوافل کی نہیں، البتہ فجر کی قضا اگر اسی دن وقت زوال سے پہلے پڑھی تو ساتھ فجر کی سنتوں کی قضا بھی کی جائے گی ورنہ صرف فرضوں کی قضا ہوگی۔ اور اگر کسی کی عشاء کی نماز رہ گئی تو اس صورت میں فرائض کے ساتھ ساتھ وتر کی قضا بھی لازم ہوگی۔ نیز اگر نماز بلا عذر شرعی، جان بوجھ کر چھوڑی تو اس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہوگی۔ اس تفصیل کے مطابق ظہر کی نماز اگر قضا ہو گئی تو توبہ کے ساتھ ساتھ صرف چار رکعات فرض کی قضا کرنا ہوگی، بقیہ سنن و نوافل کی قضا نہیں۔ بحر الرائق میں ہے ”ولم تقض إلا تبعاً قبل الزوال۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.