Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صبا نام رکھنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد انس رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2767
Issued
25 ذیقعدہ الحرام 1445ھ / 03 جون 2024ء

Question

صبا نام رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

صبا کا معنی ہے، مشرقی ہوا، صبح کی ہوا، ان معافی کے لحاظ سے یہ نام رکھنے میں حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بیٹی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بیٹی کے شامل حال ہو گی۔ فیروز اللغات میں ہے ”صبا: وہ ہو جو مشرق سے چلے، مشرقی ہوا، صبح کی ہوا۔“ (فیروز اللغات، ص 858، فیروز سنن، لاہور) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخیار کم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.