Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام اللہ دیا رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2758
- Issued
- 22 ذیقعدہ الحرام 1445ھ / 31 مئی 2024ء
Question
کسی بچے کا نام "اللہ دیا" رکھنا اور اسے اس نام سے پکارنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
"اللہ دیا" نام رکھنا اور اس نام سے پکارنا جائز ہے، تاہم مستحب یہ ہے کہ بچے کا نام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام علیہم الرضوان یا بزرگان دین میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔ البتہ بچے کا نام رکھنے میں بہتر یہ ہے کہ اولاً بچے کا نام صرف "محمد" رکھا جائے، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے مبارک اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے کہ حدیث پاک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.