Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سمیع اللہ نام رکھنا

Answered by
مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2736
Issued
30 اکتوبر 1445ھ / 10 مئی 2024ء

Question

سمیع اللہ نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

سمیع اللہ نام رکھنا شرعاً جائز ہے، اس کا معنی ہے "اللہ عزوجل کی سننے والا"۔ البتہ بچے کا نام رکھنے میں بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھا جائے، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.