Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بیٹی اپنی ماں کو زکوۃ دے سکتی ہے ؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2664
- Issued
- 15 شوال المکرم 1445ھ/24 اپریل 2024ء
Question
کیا بیٹی اپنی ماں کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟
Answer (beginning)
بیٹی اپنی ماں کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی اور اگر دے گی، تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، اس لیے کہ چند ایسے رشتہ دار ہیں کہ انہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اصول (ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور پر تک آباء واجداد) اور فروع (بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں نیچے تک اولاد) میں سے کسی کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے، اسی طرح شوہر بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی اور اگر کوئی ان میں سے کسی کو اپنی زکوٰۃ دے، تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، ان کے علاوہ بھائی، بہن، بھانجے، بھتیجے، ساس سسر، بہو داماد وغیرہ سب رشتہ داروں کو زکوٰۃ وغیرہ صدقات واجبہ دے سکتے ہیں، جبکہ وہ مستحق…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.