Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ختم قادریہ پڑھنے کی منت ماننے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2624
- Issued
- 25 رمضان المبارک 1445ھ / 05 اپریل 2024ء
Question
ہمارے حالات کچھ خراب تھے، بھائی پر آزما کشیں تھیں، میں نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں مدنی بیچ سورہ پڑھ رہی ہوں، اور میرے سامنے ختم قادریہ کھلا ہے، جب میں صبح اٹھی تو اسی دن میں نے یہ منت مانی کہ جب تک میرے اندر ہمت ہوگی، صحت ساٹھ دے گی میں روزانہ ختم قادریہ پڑھوں گی، کافی عرصہ پڑھتی بھی رہی مگر کچھ عرصے سے سستی ہو رہی ہے اور پابندی سے نہیں پڑھ پا رہی، باقی دیگر وظائف پڑھتی رہتی ہوں، تو مجھے بتائیں کہ کیا میرے اوپر روزانہ ختم قادریہ پڑھنا واجب ہے؟ اگر نہیں پڑھ پا رہی تو کیا اس پر گناہ ہے؟
Answer (beginning)
ختم قادریہ پڑھنے کی منت شرعی منت نہیں، لہذا اسے پورا کرنا واجب نہیں، اس لئے کہ شرعی منت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے چند شرطیں ہیں، جن میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایسی چیز کی منت ہو کہ اس کی جنس سے بندے پر کوئی واجب ہو، جبکہ ختم قادریہ میں ایسا نہیں۔ ہاں البتہ! بہتر یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ در مختار میں ہے ”ولونذر التسبيحات دبر الصلوة لم يلزمه“ ترجمہ: نماز کے بعد تسبیحات پڑھنے کی منت مانی تو لازم نہیں۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”و كذا لونذر قراءة القرآن“ ترجمہ: اسی طرح اگر قرآن پڑھنے کی منت مانی (تووہ بھی لازم نہیں)۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.