Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سودی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ(Accountant) کی Job کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2591
- Issued
- 14 رمضان المبارک 1445ھ / 25 مارچ 2024ء
Question
میں ایک اکاؤنٹنٹ ہوں، کمپنی میں وہاں foreign bank کے معاملات کو بھی دیکھنا اور اس کا حساب کتاب کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سودی معاملات کا بھی کام آ جاتا ہے۔ جس پر ہم اکاؤنٹنٹ کے اصول کے تحت ملازم کی حیثیت سے ٹیکسز وغیرہ ایڈ اور لیس کرتے ہیں۔ کبھی foreign exchanges اور شیئرز جیسے معاملات ہوتے ہیں ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ کیا میرا یہ نوکری کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
آپ کا یہ نوکری کرنا جائز نہیں۔ مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کسی مسلمان کے لئے ایسی نوکری کرنا، جائز نہیں جس میں اسے گناہ کے کاموں پر معاونت (Assist) کرنی پڑے۔ اکاؤنٹنٹ (Accountant) کی بنیادی ذمہ داریوں (Basic Responsibilities) میں سے یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی کی ٹرانزیکشنز (Transactions) کا حساب کتاب رکھے، اسے میٹج (Manage) کرے، جس میں سودی وغیرہ سود ساری ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں، لہذا ایسی جاب کرنا کہ جس میں سود وغیرہ ناجائز کاموں کا حساب کتاب رکھنا پڑے، جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.