Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز خوف کی وضاحت
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2548
- Issued
- 29 شعبان / 1445ھ / 11 مارچ 2024ء
Question
میرا سوال یہ ہے کہ نماز خوف سے کیا مراد ہے؟
Answer (beginning)
دشمن، درندے یا بڑے سانپ کے خوف کی وجہ سے مخصوص طریقے سے جو نماز پڑھی جاتی ہے، اسے نماز خوف کہتے ہیں اور خوف کی حالت میں اس مخصوص طریقے سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس طریقے وغیرہ سے متعلق درج ذیل تفصیل ہے: بہار شریعت میں نماز خوف کے طریقے کے متعلق ہے: ”نماز خوف کا طریقہ یہ ہے کہ جب دشمن سامنے ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ سب ایک ساتھ نماز پڑھیں گے تو حملہ کر دیں گے، ایسے وقت امام جماعت کے دو حصے کرے، اگر کوئی اس پر راضی ہو کہ ہم بعد کو پڑھ لیں گے تو اسے دشمن کے مقابل کرے اور دوسرے گروہ کے ساتھ پوری نماز پڑھ لے، پھر جس گروہ نے نماز نہیں پڑھی اس میں کوئی امام ہو جائے اور یہ لوگ اس کے ساتھ با جماعت پڑھ لیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.