Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مغرب کی نماز میں بھولے سے چار رکعتیں پڑھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2542
- Issued
- 26 شعبان / 1445ھ / 2024ء
Question
مغرب کی نماز میں بھول کر تین فرض کے بجائے چار پڑھ لیے پھر ایک رکعت اور ملائی، تو کیا اس طرح مغرب کے تین فرض اور بقیہ دو نفل ہو جائیں گے یا پھر یہ نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر قعدہ اخیرہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد کھڑا ہو گیا اور دور کعتیں مزید پڑھیں، تو اس صورت میں آخر میں سجدہ سہو کرنے سے نماز مکمل ہو جائے گی، پہلے تین فرض اور آخری دور کعتیں نفل ہو جائیں گی۔ اور اگر قعدہ اخیرہ نہیں کیا تھا، تو چوتھی رکعت کا سجدہ کرتے ہی فرض باطل ہو گئے، لہذا دوبارہ نماز پڑھے۔ در مختار میں ہے ”وان قعد فی الرابعة۔ وان سجد للخامسة۔ ضم الیها سادسة لو فی العصر و خامسة فی المغرب و الرابعة فی الفجر، به یفتی لتصیر الرکعتان له نفلا و سجد للسهو“ یعنی اگر چوتھی رکعت میں قعدہ کیا پھر پانچویں کے لیے سجدہ کر لیا تو اب چھٹی رکعت بھی ادا کرے گا، اگرچہ نماز عصر ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.