Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹے کا نام اعجاز رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2531
- Issued
- 01 شعبان / 1445ھ / 12 فروری 2024ء
Question
بیٹے کا نام 'اعجاز' رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
اعجاز کا معنی ہے: 'انتہائی فصاحت و بلاغت' معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے میں حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا اصل نام محمد رکھا جائے تاکہ اسم محمد کی برکتیں حاصل ہوں کہ احادیث مبارکہ میں نام محمد کی برکات وارد ہوئی ہیں، اور پکارنے کے لیے انبیاء کرام و اولیاء عظام کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ القاموس الوحید میں ہے: 'الاعجاز: انتہائی فصاحت و بلاغت۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.