Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انیسہ (Aneesa) نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2530
- Issued
- 01 شعبان / 1445ھ / 12 فروری 2024ء
Question
بنی کانام "انیسه (Aneesa)" رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
انیسه (Aneesa) کا معنی ہے: "انسیت دینے والی، ہر وہ چیز جس سے انسیت حاصل کی جائے۔" معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے میں حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بھی کانام صحابیات یا نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر رکھیں کہ حدیث پاک میں نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ القاموس الوحید میں ہے: "الانيس: انسیت بخشنے والا، ہر وہ چیز جس سے انسیت حاصل کی جائے، الانيسة: یہ انیس کی مؤنث ہے۔" (القاموس الوحید، صفحہ 138، مطبوعہ لاہور) مسند الفردوس میں ہے: "تسموا بخیار کم" یعنی: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.