Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ضماد نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Issued
- 13 شعبان المعظم 1445ھ/24 فروری 2024ء
Question
ضماد نام رکھنا کیسا ہے؟ ## جواب
Answer (beginning)
”ضماد“ نام رکھ سکتے ہیں، یہ ایک صحابی رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا نام ہے، اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔ الفرودوس بما ثورا خطاب میں ہے ”تسموا بخیار کم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفرودوس بما ثورا خطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) الاصابة في تمييز الصحابة میں ہے ”ضماد بن ثعلبة الأزدي۔۔۔ولہ ذکر فی حدیث آخرجہ مسلم و النسائی من طریق عمرو بن سعید، عن سعید بن جبیر، عن ابن عباس۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.