Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
برکت کے لئے اصحابِ کہف کے نام گھر میں لٹکانا
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2487
- Issued
- 03 شعبان / 1445ھ / 14 فروری 2024ء
Question
کیا ہم بھی برکت کی نیت سے اصحابِ کہف کے نام لکھ کر اپنے گھر میں لٹکا سکتے ہیں؟ بعض دوست منع کرتے ہیں کہ یہ پچھلی امتوں کے لوگ تھے ہم مسلمانوں کو ان کے نام نہیں لٹکائے چاہئیں، بلکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے جو ولی ہیں ان کے نام لکھ کر لگانے چاہئیں۔
Answer (beginning)
اصحابِ کہف یہ اللہ رب العزت کے مقبول اور برگزیدہ بندے تھے، انہیں قرآن کریم میں اللہ پاک کی عجیب نشانی کہا گیا، اور قرآن کریم میں ان کے ایمان کی پختگی اور سچائی کو بڑے واضح انداز میں بیان فرمایا گیا، اور مفسرین کرام نے اصحابِ کہف کو صاحب کرامت اولیاء میں شمار کیا ہے یہاں تک کہ کثیر علماء کرام اور ائمہ دین نے ان کے ناموں کے فوائد اور برکات بیان کی ہیں، لہذا ان اولیائے کرام کے ناموں کو گھروں میں لٹکانا بالکل جائز اور شرعاً پسندیدہ ہے، باقی بعض افراد کا یہ کہنا کہ اصحابِ کہف پچھلی امتوں کے ولی تھے تو ہم مسلمانوں کو ان کے نام نہیں لٹکائے چاہئیں، یہ بے بنیاد بات ہے، شرعاً اس کی کوئی حیثیت نہیں،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.