Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محمد مصعب نام رکھنا کیسا ہے؟

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-2481
Issued
12 شعبان / 1445ھ / 23 فروری 2024ء

Question

حضرت کیا آپ بتائیں گے یہ نام "محمد مصعب" رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

مصعب کا ایک معنی "برداشت کرنے والا" ہے، جبکہ ایک معنی "سردار" بھی ہے نیز یہ صحابی رسول حضرت سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے نسبت والا نام ہے۔ لہذا "محمد مصعب" نام رکھنا بالکل جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے اور پھر پکارنے کے لیے مذکورہ بالا نام رکھ لیجیے۔ قاموس الوحید میں ہے "المصعب: سردار۔" (القاموس الوحید، صفحہ 924، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، لاہور) نام رکھنے کے احکام میں ہے "مصعب: برداشت کرنے والا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.