Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میاں بیوی کا روزہ کی حالت میں ایک دوسرے کو چھونا

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-2471
Issued
10 شعبان / 1445ھ / 21 فروری 2024ء

Question

کیا میاں بیوی دورانِ روزہ ایک دوسرے کو چھو سکتے ہیں؟ اس سے اگر شہوت آجائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

Answer (beginning)

روزے کی حالت میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بدن کو چھونا مکروہ ہے، جب کہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا (یعنی منی شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکل جائے گی) یا جماع میں مبتلا ہو جائیں گے اور صرف شہوت آنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر بیوی سے بوس و کنار وغیرہ کرنے یا چھونے سے انزال ہو گیا (یعنی منی شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکل گئی) تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ در مختار میں ہے ”(و) کرہ (قبلہ) و مس و معانقہ۔۔۔ (إن لم یأمن) المفسد“ ترجمہ: روزے دار کے لئے بوسہ لینا، بدن چھونا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے جبکہ روزہ توڑنے والی چیز سے امن نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.