Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کا نماز جنازہ میں تین تکبیروں پر سلام پھیرنا
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2459
- Issued
- 04 شعبان اعظم 1445ھ / 15 فروری 2024ء
Question
ایک امام نے نماز جنازہ میں تین تکبیریں کہنے کے بعد بھول کر ایک طرف سلام پھیرا، تو مقتدیوں میں سے کسی نے امام کو لقمہ دیا، جسے سن کر امام نے چوتھی تکبیر کہی اور پھر سلام پھیرا۔ کیا ایسی صورت میں نماز جنازہ درست ہو گئی یا دوبارہ پڑھنی ہو گی؟
Answer (beginning)
پوتھی گئی صورت میں جب امام نے نماز جنازہ میں بھول کر چار کے بجائے تین تکبیریں کہہ کر سلام پھیرا، اور پھر مقتدیوں میں سے کسی کے لقمہ دینے پر چوتھی تکبیر کہی، تو چونکہ ایسی صورت میں چاروں تکبیریں جو کہ نماز جنازہ کارکن ہیں، ادا ہو گئیں، لہذا نماز جنازہ درست ہو گئی اور اُس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ چاروں تکبیریں نماز جنازہ کارکن ہیں، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(ور کنہا التکبیرات) الاربِع“ ترجمہ: چار تکبیرات نماز جنازہ کارکن ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.