Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

یزدان نام رکھنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری
Fatwa no.
WAT-2434
Issued
04 رجب المرجب 1445ھ / 16 جنوری 2024ء

Question

یزدان نام رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

مجوس (آتش پرست / آگ کی پوجاکرنے والوں) کے عقیدے کے مطابق نیکی اور خیر کا الگ خالق ہے، جسے وہ ”یزدان“ کہتے ہیں اور برائی کا الگ خالق ہے، جسے وہ ”اہر من“ کہتے ہیں۔ (الفرق بین الفرق، ص 278، مطبوعہ بیروت) فیروز اللغات میں یزدان کے یہ معانی درج ہیں: ”نیکی اور خیر کا خالق، پارسیوں کا خدا۔“ (فیروز اللغات، ص 1533، فیروز سنز لمیٹڈ) لہذا یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کا اصل نام محمد رکھا جائے تاکہ اسم محمد کی برکتیں حاصل ہوں کہ احادیث مبارکہ میں نام محمد کی برکات وارد ہوئی ہیں، اور پکارنے کے لیے انبیاء کرام و اولیاء عظام کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے، جیسے محمد ابراہیم، محمد…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.