Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نورِ عدن نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2413
- Issued
- 18 رجب المرجب 1445ھ / 30 جنوری 2024ء
Question
بچی کا نام نور عدن رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
"نور عدن" نام رکھنا جائز ہے۔ "نور" کا معنی "روشنی" ہے اور "عدن" کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ "عدن" جنت میں ایک خاص جگہ کا نام ہے اور ایک قول یہ ہے کہ "عدن" جنت کی صفت ہے۔ اس اعتبار سے "نور عدن" کا معنی "جنت عدن کی روشنی" ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.