Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
علمِ دین حاصل کرتے ہوئے فوت ہونے کی فضیلت
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2379
- Issued
- 07 رجب المرجب 1445ھ / 19 جنوری 2024ء
Question
کیا علم دین حاصل کرتے ہوئے دوران طالب علمی موت آنے کی کوئی فضیلت ہے؟ اگر ہے تو ارشاد فرمادیں۔
Answer (beginning)
علم دین حاصل کرنے والے کو اگر دوران طالب علمی موت آجائے تو احادیث مبارکہ میں اس کے بارے میں درج ذیل فضیلتیں بیان کی گئی ہیں: (1): دوران طالب علمی وفات پانے والا، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت درجہ نبوت کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کے درجے میں ہو گا، چنانچہ ”المعجم الاوسط للطبرانی“ میں حدیث مبارک منقول ہے: ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من جاءہ أجله وهو يطلب العلم لقي الله ولم يكن بينه وبين النبيين إلا درجة النبوة“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو علم دین حاصل کرتے ہوئے موت آگئی، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے اور انبیاء کرام…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.