Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مغرب کی نمازمیں بھول کر دعائے قنوت پڑھنا
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2357
- Issued
- 26 جمادی الثانی 1445ھ / 09 جنوری 2024ء
Question
مغرب کی نماز میں تیسری رکعت میں بھولے سے وتر سمجھ کر دعائے قنوت پڑھ لی، آخر میں یاد آیا کہ میں تو فرض پڑھ رہی تھی، تو میں نے سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کر لی، تو کیا میری نماز ہو گئی؟
Answer (beginning)
مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت خواہ بھولے سے پڑھی ہو یا جان بوجھ کر بہر صورت اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا لہذا سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں، بغیر اس کے ہی نماز درست ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کی قراءت افضل ہے واجب نہیں، تین بار تسبیح کہنے یا اتنی مقدار خاموش کھڑے رہنے کا بھی اختیار ہے۔ البتہ بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے اور دعائے قنوت بھی تسبیح ہے لہذا مغرب کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں، نماز ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.