Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لڑکے کا نام سیف رکھنا

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2335
Issued
23 جمادی الثانی 1445ھ / 06 جنوری 2024ء

Question

لڑکے کا نام سیف رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

لڑکے کا نام سیف رکھنا جائز ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاء وصالحین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔ اور اگر پکارنے کے لیے سوال میں مذکور نام رکھنا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.