Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زین العابدین نام رکھنا

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری
Fatwa no.
WAT-2290
Issued
07 جمادی الثانی 1445ھ / 21 دسمبر 2023ء

Question

زین العابدین نام رکھنا کیسا؟

Answer (beginning)

زین العابدین کا معنی ہے "عبادت گزاروں کی زینت" اس معنی میں خود ستائی و تعلیٰ والا مفہوم پایا جا رہا ہے اور جس لفظ کے معنی میں خود ستائی یا تعلیٰ والا مفہوم ہو، ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے، لہذا زین العابدین نام نہ رکھا جائے۔ نیز یاد رہے کہ حضرت امام زین العابدین کا اصل نام "علی اوسط" تھا، لیکن وہ بہت زیادہ عبادت کرتے تھے، جس وجہ سے انہیں زین العابدین کا لقب دیا گیا اور یقینی بات ہے کہ یہ ان کے عمل کے موافق تھا نیز یہ ان کا نام نہیں، بلکہ لقب تھا کہ جو انہوں نے خود اپنے آپ کو نہ دیا، بلکہ لوگوں نے آپ کو یہ لقب دیا۔ ہاں! اگر ان کی نسبت سے نام رکھنا چاہیں، تو غلام زین العابدین رکھ سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.