Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اعھد نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2273
- Issued
- 02 جمادی الثانی 1445ھ / 16 دسمبر 2023ء
Question
سورۃ یاسین میں "اعھد" لفظ ہے، کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
"اعھد" کوئی نام نہیں، بلکہ یہ فعل ہے، جس کا معنی ہے: "میں عہد لیتا ہوں۔" لہذا اس کو بطور نام نہ رکھا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاء وصالحین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.