Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

یہ کام نہیں کروں گا اگر کروں تو دس رکعت نماز پڑھوں گا کہنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2271
Issued
02 ہجری 1445ھ / 16 دسمبر 2023ء

Question

زید نے کسی کام کے متعلق کہا کہ ”میں یہ کام نہیں کروں گا اگر کروں تو دس رکعت نماز پڑھوں گا۔“ اب وہ کام بار بار کرتا رہتا ہے تو اس کو دس رکعت ہر بار پڑھنی ہوں گی یا ایک بار پڑھنے سے بری الذمہ ہو جائے گا۔ اسے قسم کہیں گے یا نہیں جبکہ قسم کے الفاظ اپنی زبان نہیں نکالے؟

Answer (beginning)

پونچی گئی صورت میں بس ایک بار ہی دس رکعتیں پڑھنی ہوں گی کیونکہ ایک دفعہ شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر تعلیق ان الفاظ کے ساتھ ہوتی جیسے جب کبھی یا جب جب یا ہر بار میں یہ کام کروں تو دس رکعت نماز پڑھوں گا، تو پھر ایک بار پر تعلیق ختم نہ ہوتی بلکہ ہر بار یہ کام کرنے کے بعد دس رکعتیں پڑھنا لازم ہو تیں۔ اور تعلیق والی صورت میں چونکہ یمین (قسم) کا معنی بھی پایا جاتا ہے لہذا اس کی بعض صورتوں میں کفارہ ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.