Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ساری فصل بیچ کر رقم مسجد میں دے دی تو عشر ادا ہوا یا نہیں ؟

Answered by
مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2245
Issued
27 ہجری الاول 1445ھ / 12 دسمبر 2023ء

Question

مؤکثہ پھیلی لگائی فصل تیار ہونے پر ساری فصل بیج دی اور اس کی جتنی رقم ملی اس میں سے جو عشر بنتا تھا شرعی فقیر کونہ دیا اور ساری رقم عشر سمیت مسجد کی تعمیرات اور دیگر اخراجات کے لیے دے دی اس طرح عشر ساقط ہو جائے گا۔ اگر ادا کرنا ہے تو کون کرے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مسجد میں فصل کی رقم دے دینے سے عشر ادا نہیں ہوا، اس کے عشر کی ادائیگی ابھی بھی لازم ہے اور یہ ادائیگی مؤکثہ پھیلی کی فصل کا جو مالک ہے، اس پر لازم ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ: عشر کے مصارف بھی وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں اور مسجد ان مصارف میں سے نہیں ہے اور جس طرح زکوٰۃ میں کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنانا ضروری ہے یو نہی عشر میں بھی کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورت مستفسرہ میں کل رقم مسجد میں دینے سے عشر ادا نہیں ہوا، تو اب بھی عشر کی ادائیگی لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.