Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیماری کے دوران اشارے سے پڑھی گئی نمازوں کو دوبارہ پڑھنا ہوگا یا نہیں ؟

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2220
Issued
09 جمادی الاول 1445ھ / 24 نومبر 2023ء

Question

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو اور بیماری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے بیڈ پر ہو اشارہ سے نماز پڑھ رہا ہو تو جب صحت یاب ہو گا تو وہ نمازیں جو اس نے اشارے سے پڑھی ہیں وہ دوبارہ پڑھنی ہوں گی؟

Answer (beginning)

جو شخص کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کر سکتا تو وہ بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرے، اگر وہ بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے پر قادر ہے تو اس صورت میں رکوع و سجدہ کے بجائے اشارے کرنے سے اس کی نماز نہیں ہوگی، لہذا ایسی صورت میں جو نماز اشارے سے پڑھی اس کو دہرانا ہو گا اور توبہ بھی کرنی ہوگی۔ ہاں اگر واقعی ایسی بیماری ہے کہ جس کی وجہ سے وہ بیٹھ کر بھی رکوع و سجدہ نہیں کر سکتا تو اسے رکوع و سجدہ کی جگہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی اور جب تک یہ کیفیت رہے، اس وقت تک جتنی نمازیں وہ اشارے سے پڑھے گا، صحت حاصل ہونے کے بعد ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا اس پر لازم نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.