Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا نام ملک شریف خان رکھنا

Answered by
مولانا محمد انس رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2204
Issued
07 جمادی الاول 1445ھ / 25 نومبر 2023ء

Question

کیا میں اپنے بچے کا نام ملک شریف خان رکھ سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

ملک شریف خان نام رکھنا جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ لڑکے کا نام محمد رکھا جائے اور پکارنے کے لئے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ و تابعین علیہم الرضوان یا نیک لوگوں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔ محمد نام رکھنے کی فضیلت: کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمد احبالی وتبرکاباسمی کان هوومولوده فی الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.