Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جوئے کی رقم غریب رشتہ دار کو دینا

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-2155
Issued
21 ربیع الثانی 1445ھ / 06 نومبر 2023ء

Question

آپ نے جوئے کی رقم کا بتایا کہ شرعی فقیر کو صدقہ کر دیں تو کیا غریب رشتہ داروں کو دے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

آپ کو یہ مسئلہ بتایا گیا تھا کہ جوئے سے جیتا گیا مال جیتنے والے کی ملکیت میں داخل ہی نہیں ہوتا، لہذا جس کے پاس ایسی رقم یا مال ہو، اُس پر فرض ہے کہ جس سے وہ مال لیا اسے واپس کرے اور اگر وہ زندہ نہ رہا ہو تو اُس کے وارثین یعنی اولاد وغیرہ کو واپس کرے اور اگر مالک اور اس کی اولاد میں سے کوئی نہیں ملتا، تو اس پر ضروری ہے کہ مالک کی طرف سے بغیر ثواب کی نیت کیے، کسی شرعی فقیر کو دے دے اور اس رقم میں اس کے علاوہ کوئی تصرف کرنا جائز نہیں۔ البتہ! جس صورت میں شرعی فقیر کو صدقہ کرنا ہو تو اپنے شرعی فقیر رشتہ داروں، بہن بھائی، خالہ، ماموں، چچا، چھو، چھو یا ان کی اولاد وغیرہ کو بھی یہ رقم دے سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.