Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد زِیّان نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا محمد علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2154
- Issued
- 19 ربیع الثانی 1445ھ / 04 نومبر 2023ء
Question
بیٹے کا نام محمد زیاں رکھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
زیاں (زاکے کسرہ اور یا کی تشدید کے ساتھ) نام کا معنی ہے: سجاوٹ اور زینت کی چیز۔" (قاموس الوحید، صفحہ 732، ادارہ اسلامیات) لہذا محمد زیاں نام رکھنا شرعاً جائز و درست ہے۔ البتہ! بچوں کے نام رکھنے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ لڑکے کا نام اولاً صرف "محمد" رکھا جائے تاکہ نام محمد رکھنے کی جو فضیلت ہے وہ حاصل ہو اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء، صحابہ، اولیاء وغیرہ نیک لوگوں کے نام پر نام رکھا جائے، تاکہ ان کی برکت حاصل ہو۔ اور حدیث پاک میں انھوں کے نام پر نام رکھنے کی جو ترغیب ارشاد فرمائی گئی، اس پر عمل بھی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.