Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد ذیشان نام رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2106
- Issued
- 24 ربیع الاول 1445ھ / 11 اکتوبر 2023ء
Question
محمد ذیشان نام رکھ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
ذیشان کا معنی ہے: "شان و عظمت والا" یہ نام رکھنا شرعاً درست ہے۔ فیروز الغات میں ہے: "ذی شان - شان و شوکت والا" (فیروز الغات، ص 731، فیروز سنن، لاہور) البتہ! بچوں کے نام رکھنے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ لڑکے کا نام اولاً صرف "محمد" رکھا جائے تاکہ نام محمد رکھنے کی جو فضیلت ہے وہ حاصل ہو اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء، صحابہ، اولیاء وغیرہ نیک لوگوں کے نام پر نام رکھا جائے، تاکہ ان کی برکت حاصل ہو۔ اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی جو ترغیب ارشاد فرمائی گئی، اس پر عمل بھی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.